بنگلورو24؍ستمبر(ایس او نیوز) برہت بنگلور مہانگر پالیکے کے اگلے میئر کے انتخاب کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، لیکن میئر کے عہدہ کیلئے کسے امیدوار بنایا جائے یہ فیصلہ کانگریس جے ڈی ایس اتحاد نے سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی جنتادل (ایس) صدر ایچ ڈی کمار سوامی پر چھوڑ دیا ہے۔ کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کو اگر قطعیت مل گئی تو شہر کے پرکاش نگر کی سینئر کارپوریٹر جی پدماوتی کو میئر کا عہدہ مل سکتا ہے۔ ریاستی وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار کی کٹر حامیوں میں شمار کی جانے والی پدماوتی کی امیدواری کی حمایت شہر کے بیشتر اراکین اسمبلی، وزراء اور کارپوریٹروں نے کی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آخری لمحات میں ڈی کے شیوکمار سے قربت ان کیلئے رکاوٹ بھی بن سکتی ہے،، کیونکہ سابق وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی ، ڈی کے شیوکمار کی امیدوار کو میئر کاعہدہ دینے پر اعتراض کرسکتے ہیں۔ایسے میں کانگریس جے ڈی ایس اتحاد برقرار رکھنے کی خاطر شانتی نگر حلقہ سے منتخب کانگریس کارپوریٹر سومیا شیوکمار، کو میئر کاعہدہ دیاجاسکتا ہے۔ 269 ووٹروں پر مشتمل بی بی ایم پی میں اقتدار کیلئے 135 ووٹ درکار ہیں، کانگریس کے پاس 112 ووٹ اپنے ہیں ، جبکہ جنتادل (ایس) کے 23 ووٹ کانگریس کے حق میں ملیں گے تو کانگریس کی جیت یقینی ہوگی۔ جے ڈی ایس کے باغی اراکین اسمبلی نے پہلے ہی کانگریس کی حمایت کا کھل کر اعلان کردیا ہے، جس کی وجہ سے کمار سوامی نے مجبوراً کانگریس سے اتحاد پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ آخری لمحات میں اگر کمار سوامی نے ذہن تبدیل کردیا تو ہوسکتا ہے کہ جے ڈی ایس بی جے پی اتحاد سامنے آئے۔ بی جے پی کے پاس 127 ووٹ ہیں۔ جنتادل (ایس) کے اگر صرف 8 کارپوریٹروں نے بی جے پی کا ساتھ دے دیا تو وہ میئر کا عہدہ آسانی سے حاصل کرسکتی ہے۔ بی جے پی نے پیش کش کی ہے کہ جنتادل (ایس) نے اگر اس کا ساتھ دیا تو ڈپٹی میئر کے عہدہ کے ساتھ پانچ اسٹانڈنگ کمیٹیوں کی چیرمین شپ جے ڈی ایس کو دی جائے گی، لیکن کانگریس کی حمایت کی گئی تو ڈپٹی میئر کاعہدہ ضرور ملے گا، لیکن اسٹانڈنگ کمیٹیوں پر برابری نہیں ہوپائے گی۔ بی جے پی کے ساتھ اگر جے ڈی ایس نے اتحاد کرلیا تو بی جے پی میں بھی میئر کے عہدہ کے دعویداروں کی طویل فہرست ہے جس پر ابھی کوئی اتفاق نہیں ہوا ہے۔ کل صبح کمار سوامی اپنے تمام کارپوریٹروں کو لے کر کیرلا کے ایک ریسارٹ میں قیام کرنے کیلئے جارہے ہیں، جبکہ 28 ستمبر کو میئر کے الیکشن سے پہلے یہ لوگ بڑدی کے ایگل ٹن ریسارٹ میں رہیں گے اور راست طور پر بی بی ایم پی کونسل ہال میں داخل ہوں گے۔